نہ فرات و دجلہ پہ ناز کر نہ فریب گنگ و جمن میں آ
یہ جہان سب ہے ترا وطن تو کدھر ہے اپنے وطن میں آ
تو ہے رنگ نرگس و نسترن ہے تجھی سے رونق انجمن
ترے منتظر ہیں گل و سمن تو بہار بن کے چمن میں آ
تجھے لاکھ لوگ حسیں کہیں تجھ لاکھ در ثمیں کہیں
تری قدر ہوگی فقط یہیں تو حریم دل کے عدن میں آ
جو خیال خلد میں ہو مگن مے و انگبیں میں ہو جس کا من
جو وطن میں رہ کے ہو بے وطن اسے کیا کہوں کہ وطن میں آ
یہ بہار باغ یہ محفلیں تری خلوتوں پہ نثار ہوں
تجھے کام غنچہ و گل سے کیا تو چمن کو چھوڑ کے بن میں آ
رہ و رسم عشق پہ رکھ نظر ہو جہان نو کا پیامبر
نہ تو عہد رفتہ کو یاد کر نہ فریب چرخ کہن میں آ
یہ کھلا نہ ہم پہ کہ تو کہاں مے شعر پی کے نکل گیا
تجھے یاد کرتے ہیں عرشؔ سب کبھی پھر بھی بزم سخن میں آ
غزل
نہ فرات و دجلہ پہ ناز کر نہ فریب گنگ و جمن میں آ
عرش ملسیانی

