EN हिंदी
مطمئن ہو کے مرنے کا سامان کر | شیح شیری
mutmain ho ke marne ka saman kar

غزل

مطمئن ہو کے مرنے کا سامان کر

اطہر شکیل

;

مطمئن ہو کے مرنے کا سامان کر
زندگی اے خدا مجھ پہ آسان کر

صرف رسمی تعارف ہی کافی نہیں
میرے نزدیک آ میری پہچان کر

رسم ہے سجدہ ریزی تو کچھ بھی نہیں
قلب کو پہلے اپنے مسلمان کر

ابر کی اوٹ میں چاند کب کا چھپا
اب نہ چہرے پہ زلفیں پریشان کر

موت تو آئے گی بے طلب آئے گی
زندگی ہے تو جینے کا ارمان کر

اس سے مل کر میں کہتا تو کیسے شکیلؔ
مجھ کو گھر اپنے اک روز مہمان کر