EN हिंदी
مستقبل روشن تر کہیے | شیح شیری
mustaqbil raushan-tar kahiye

غزل

مستقبل روشن تر کہیے

شاد عارفی

;

مستقبل روشن تر کہیے
لیکن آنکھ ملا کر کہیے

بربادی کو منظر کہیے
کہیے سوچ سمجھ کر کہیے

سمجھایا تھا دیکھ کے چلیے
کیسی کھائی ٹھوکر کہیے

دم گھٹنے کی بات الگ ہے
طوق گلو کو زیور کہیے

آنسو ہیں قانون سے باہر
غم کی باتیں ہنس کر کہیے

آئینہ دکھلانا ہوگا
سچی باتیں منہ پر کہیے

شیخی کی بھی حد ہوتی ہے
کب تک بہتر بہتر کہیے