EN हिंदी
مرتب ہو کے اک محشر غبار دل سے نکلے گا | شیح شیری
murattab ho ke ek mahshar ghubar-e-dil se niklega

غزل

مرتب ہو کے اک محشر غبار دل سے نکلے گا

سیماب اکبرآبادی

;

مرتب ہو کے اک محشر غبار دل سے نکلے گا
نیا اک کارواں گرد رہ منزل سے نکلے گا

ہمارے منہ سے اور شکوہ تمہارا ہو نہیں سکتا
تمہارا نام بھی شاید بڑی مشکل سے نکلے گا

نہ ہوگا گوشۂ دامن مرا وابستۂ منزل
نہ جب تک ہاتھ تیرا پردۂ منزل سے نکلے گا

مری آنکھیں ہیں بزم رنگ و بو میں منتظر تیری
نہیں معلوم تو کب تک حجاب دل سے نکلے گا

میں اپنے دل کو یوں پیش نظر سیمابؔ رکھتا ہوں
کہ میرا چاند جب نکلا اسی منزل سے نکلے گا