EN हिंदी
ہر دم طرف ہے ویسے مزاج کرخت کا | شیح شیری
har-dam taraf hai waise mizaj karaKHt ka

غزل

ہر دم طرف ہے ویسے مزاج کرخت کا

میر تقی میر

;

ہر دم طرف ہے ویسے مزاج کرخت کا
ٹکڑا مرا جگر ہے کہو سنگ سخت کا

سبزان ان رو کی جہاں جلوہ گاہ تھی
اب دیکھیے تو واں نہیں سایہ درخت کا

جوں برگ ہائے لالہ پریشان ہو گیا
مذکور کیا ہے اب جگر لخت لخت کا

دلی میں آج بھیک بھی ملتی نہیں انہیں
تھا کل تلک دماغ جنہیں تاج و تخت کا

خاک سیہ سے میں جو برابر ہوا ہوں میرؔ
سایہ پڑا ہے مجھ پہ کسو تیرہ بخت کا