EN हिंदी
ادھر سے ابر اٹھ کر جو گیا ہے | شیح شیری
idhar se abr uTh kar jo gaya hai

غزل

ادھر سے ابر اٹھ کر جو گیا ہے

میر تقی میر

;

ادھر سے ابر اٹھ کر جو گیا ہے
ہماری خاک پر بھی رو گیا ہے

مصائب اور تھے پر دل کا جانا
عجب اک سانحہ سا ہو گیا ہے

مقامر خانۂ آفاق وہ ہے
کہ جو آیا ہے یاں کچھ کھو گیا ہے

کچھ آؤ زلف کے کوچے میں درپیش
مزاج اپنا ادھر اب تو گیا ہے

سرہانے میرؔ کے کوئی نہ بولو
ابھی ٹک روتے روتے سو گیا ہے