EN हिंदी
جہاں اب خار زاریں ہو گئی ہیں | شیح شیری
jahan ab Khaar zarin ho gai hain

غزل

جہاں اب خار زاریں ہو گئی ہیں

میر تقی میر

;

جہاں اب خار زاریں ہو گئی ہیں
یہیں آگے بہاریں ہو گئی ہیں

جنوں میں خشک ہو رگ ہائے گردن
گریباں کی سی تاریں ہو گئی ہیں

سنا جاتا ہے شہر عشق کے گرد
مزاریں ہی مزاریں ہو گئی ہیں

اسی دریاے خوبی کا ہے یہ شوق
کہ موجیں سب کناریں ہو گئی ہیں

انہیں گلیوں میں جب روتے تھے ہم میرؔ
کئی دریا کی دھاریں ہو گئی ہیں