EN हिंदी
مہربانی بھی ہے عتاب بھی ہے | شیح شیری
mehrbani bhi hai itab bhi hai

غزل

مہربانی بھی ہے عتاب بھی ہے

اسماعیلؔ میرٹھی

;

مہربانی بھی ہے عتاب بھی ہے
کچھ تسلی کچھ اضطراب بھی ہے

ہے تو اغیار سے خطاب مگر
میری ہر بات کا جواب بھی ہے

واں برابر ہے خلوت و جلوت
اس کی بے پردگی حجاب بھی ہے

ہو قناعت تو ہے جہاں دریا
حرص غالب ہو تو سراب بھی ہے

وہ تخبتر کہاں تپاک کہاں
گرم و روشن تو آفتاب بھی ہے