EN हिंदी
موت علاج غم تو ہے موت کا آنا سہل نہیں | شیح شیری
maut ilaj-e-gham to hai maut ka aana sahl nahin

غزل

موت علاج غم تو ہے موت کا آنا سہل نہیں

میلہ رام وفاؔ

;

موت علاج غم تو ہے موت کا آنا سہل نہیں
جان سے جانا سہل سہی جان کا جانا سہل نہیں

ہمدردی ہمدردی میں جان ہی لے کر ٹلتے ہیں
ان ظالم ہمدردوں سے جان چھڑانا سہل نہیں

برق بھی گرتی ہے اکثر خرمن بھی جلتے ہیں مگر
اپنے ہاتھوں خرمن کو آگ لگانا سہل نہیں

غم کے کھانے والوں کو کھا جاتا ہے غم آخر
غم کا کھانا مشکل ہے غم کا کھانا سہل نہیں

دعوئ مجذوببیت کیا مجھ سے کرے منصور وفاؔ
بک اٹھنا ہے سہل مگر بکتے جانا سہل نہیں