EN हिंदी
موجوں کا عکس ہے خط جام شراب میں | شیح شیری
maujon ka aks hai KHat-e-jam-e-sharab mein

غزل

موجوں کا عکس ہے خط جام شراب میں

اصغر گونڈوی

;

موجوں کا عکس ہے خط جام شراب میں
یا خون اچھل رہا ہے رگ ماہتاب میں

وہ موت کہ کہتے ہیں جس کو سکون سب
وہ عین زندگی ہے جو ہے اضطراب میں

دوزخ بھی ایک جلوۂ فردوس حسن ہے
جو اس سے بے خبر ہے وہی ہے عذاب میں

اس دن بھی میری روح تھی محو نشاط دید
موسیٰ الجھ گئے تھے سوال و جواب میں

میں اضطراب شوق کہوں یا جمال دوست
اک برق ہے جو کوندھ رہی ہے نقاب میں