EN हिंदी
میں تجھے واہ کیا تماشا ہے | شیح شیری
main tujhe wah kya tamasha hai

غزل

میں تجھے واہ کیا تماشا ہے

میر اثر

;

میں تجھے واہ کیا تماشا ہے
ذہن میں آشنا تراشا ہے

ہاتھ میں رکھیو تو سنبھالے ہوئے
دل تو میرا یہ سیشا باشا ہے

تو جو تولے ہے میرے من کی چاہ
کچھ ترے ہاں بھی تولہ ماشہ ہے

کیا کہوں تیری کاوش مژہ نے
کس طرح سے جگر خراشا ہے

خیر گزرے اثرؔ تو ہے بے باک
اور وہ شوخ بے تحاشا ہے