EN हिंदी
میں جس جگہ ہوں وہاں بود و باش کس کی ہے | شیح شیری
main jis jagah hun wahan bud-o-bash kis ki hai

غزل

میں جس جگہ ہوں وہاں بود و باش کس کی ہے

فاضل جمیلی

;

میں جس جگہ ہوں وہاں بود و باش کس کی ہے
مرے بدن کے کفن میں یہ لاش کس کی ہے

تجھے خیال میں لا کر گل و نجوم کے ساتھ
یہ دیکھنا ہے کہ اچھی تراش کس کی ہے

خیال و خواب کی گلیوں میں بھی ہے ویرانی
مری اداس نظر کو تلاش کس کی ہے

تمہارا کام نہیں تو پھر انتظام ہے کیا
دل و جگر پہ یہ ایک اک خراش کس کی ہے

جو آپ اپنی ہی پسماندگی پہ ناز کرے
میں خود نہیں تو یہ طرز معاش کس کی ہے