EN हिंदी
میں جب بھی چھونے لگوں تم ذرا پرے ہو جاؤ | شیح شیری
main jab bhi chhune lagun tum zara pare ho jao

غزل

میں جب بھی چھونے لگوں تم ذرا پرے ہو جاؤ

آفتاب اقبال شمیم

;

میں جب بھی چھونے لگوں تم ذرا پرے ہو جاؤ
یہ کیا کہ لمس میں آتے ہی دوسرے ہو جاؤ

یہ کار عشق مگر ہم سے کیسے سرزد ہو
الاؤ تیز ہے صاحب ذرا پرے ہو جاؤ

تمہاری عمر بھی اس آب کے حساب میں ہے
نہیں کہ اس کے برسنے سے تم ہرے ہو جاؤ

یہ گوشہ گیر طبیعت بھی ایک محبس ہے
ہوا کے لمس میں آؤ ہرے بھرے ہو جاؤ

کبھی تو مطلع دل سے ہو اتنی بارش اشک
کہ تم بھی کھل کے برستے ہوئے کھرے ہو جاؤ