EN हिंदी
میں جانتا ہوں خوشامد پسند کتنا ہے | شیح شیری
main jaanta hun KHushamad-pasand kitna hai

غزل

میں جانتا ہوں خوشامد پسند کتنا ہے

شکیل اعظمی

;

میں جانتا ہوں خوشامد پسند کتنا ہے
یہ آسمان زمیں سے بلند کتنا ہے

تمام رسم اٹھا لی گئی محبت میں
دلوں کے بیچ مگر قید و بند کتنا ہے

جو دیکھتا ہے وہی بولتا ہے لوگوں سے
یہ آئنہ بھی حقیقت پسند کتنا ہے

تمام رات مرے ساتھ جاگتا ہے کوئی
وہ اجنبی ہے مگر درد مند کتنا ہے

میں اس کے بارے میں اکثر یہ سوچتا ہوں شکیلؔ
کھلا ہوا ہے وہ اتنا تو بند کتنا ہے