EN हिंदी
میں ہوا ہوں کہاں وطن میرا | شیح شیری
main hawa hun kahan watan mera

غزل

میں ہوا ہوں کہاں وطن میرا

عمیق حنفی

;

میں ہوا ہوں کہاں وطن میرا
دشت میرا نہ یہ چمن میرا

میں کہ ہر چند ایک خانہ نشیں
انجمن انجمن سخن میرا

برگ گل پر چراغ سا کیا ہے
چھو گیا تھا اسے دہن میرا

میں کہ ٹوٹا ہوا ستارہ ہوں
کیا بگاڑے گی انجمن میرا

ہر گھڑی اک نیا تقاضا ہے
درد سر بن گیا بدن میرا