EN हिंदी
میکدے میں بیٹھ کر ایمان کی پروا نہ کر | شیح شیری
mai-kade mein baiTh kar iman ki parwa na kar

غزل

میکدے میں بیٹھ کر ایمان کی پروا نہ کر

ہری چند اختر

;

میکدے میں بیٹھ کر ایمان کی پروا نہ کر
یا اسے بھی ایک دو چلو پلا دیوانہ کر

مسکرا دے قصۂ امید کر دے مختصر
یا بڑھا لے چل ذرا سی بات کو افسانہ کر

خوش مذاقی شرط ہو جس کے نظارے کے لئے
اس گل خود رو کو یا رب زینت ویرانہ کر

حادثہ ہے لیکن ایسا غیر معمولی نہیں
شمع پر پروانہ جلنے دے کوئی پروانہ کر