لمس یقین اپنا کہاں پیش و پس میں تھا
تو پھر یہ کیسا جوش صدائے جرس میں تھا
ذروں کے انتشار نے مشکوک کر دیا
یوں عقدۂ وجود بھی میزان خس میں تھا
تھا جسم ابتدا سے اذیت کی قید میں
کیوں غازۂ خیال منور قفس میں تھا
ساکت زمیں کے جسم پہ ہنگامہ صدا
یوں لشکر حیات رواں بے نفس میں تھا
قرطاس ذات پر ترے عامرؔ جو کھل اٹھا
وہ نقطۂ عروج کہاں تیرے بس میں تھا
غزل
لمس یقین اپنا کہاں پیش و پس میں تھا
عامر نظر

