کیا وصل کی ساعت کو ترسنے کے لیے تھا
دل شہر تمنا ترے بسنے کے لیے تھا
صحرا میں بگولوں کی طرح ناچ رہا ہوں
فطرت سے میں بادل تھا برسنے کے لیے تھا
روتی ہوئی ایک بھیڑ مرے گرد کھڑی تھی
شاید یہ تماشہ مرے ہنسنے کے لیے تھا
کچھ رات کا احساں ہے نہ سورج کا کرم ہے
غنچہ تو بہرحال بکسنے کے لیے تھا
اس راہ سے گزرا ہوں جہاں سانس نہ دے ساتھ
ہر نقش کف پا مرے ڈسنے کے لیے تھا
ہر قطرہ مری آنکھ سے بہنے کو تھا بیتاب
ہر ذرہ مرے پاؤں جھلسنے کے لیے تھا
غزل
کیا وصل کی ساعت کو ترسنے کے لیے تھا
مظفر حنفی