کیا کیا نہیں کیا مگر ان پر اثر نہیں
شاید کہ اپنی سعئ جنوں کار گر نہیں
گھبرا کے چاہتے ہیں کہ گردش میں ہم رہیں
منزل کہیں نہ ہو کوئی ایسا سفر نہیں
مل جائے ایک رات محبت کی زندگی
پھر خواہش حیات ہمیں عمر بھر نہیں
آوارگی میں لطف و اذیت کے باوجود
ایسا نہیں ہوا ہے کہ فکر سحر نہیں
غزل
کیا کیا نہیں کیا مگر ان پر اثر نہیں
باقر مہدی

