EN हिंदी
کچھ بھی کر گزرنے میں دیر کتنی لگتی ہے | شیح شیری
kuchh bhi kar guzarne mein der kitni lagti hai

غزل

کچھ بھی کر گزرنے میں دیر کتنی لگتی ہے

نوشی گیلانی

;

کچھ بھی کر گزرنے میں دیر کتنی لگتی ہے
برف کے پگھلنے میں دیر کتنی لگتی ہے

اس نے ہنس کے دیکھا تو مسکرا دیے ہم بھی
ذات سے نکلنے میں دیر کتنی لگتی ہے

ہجر کی تمازت سے وصل کے الاؤ تک
لڑکیوں کے جلنے میں دیر کتنی لگتی ہے

بات جیسی بے معنی بات اور کیا ہوگی
بات کے مکرنے میں دیر کتنی لگتی ہے

زعم کتنا کرتے ہو اک چراغ پر اپنے
اور ہوا کے چلنے میں دیر کتنی لگتی ہے

جب یقیں کی بانہوں پر شک کے پاؤں پڑ جائیں
چوڑیاں بکھرنے میں دیر کتنی لگنی ہے