EN हिंदी
کسی نغمے میں ہے وہ اور نہ کسی ساز میں ہے | شیح شیری
kisi naghme mein hai wo aur na kisi saz mein hai

غزل

کسی نغمے میں ہے وہ اور نہ کسی ساز میں ہے

عرش ملسیانی

;

کسی نغمے میں ہے وہ اور نہ کسی ساز میں ہے
رس بھری نرم سی لے جو تری آواز میں ہے

گوش مشتاق کی خود ساختہ تفریق ہے یہ
ورنہ جو ساز ہے باہر ہے وہی ساز میں ہے

لے نہ ڈوبے کہیں خوش فہمیٔ ادراک تجھے
نا خدائی تری پوشیدہ اسی راز میں ہے

آپ ہی زندہ کریں مردہ تمناؤں کو
قم بہ اذنی کا اثر آپ کی آواز میں ہے

ہم صفیروں کی صداؤں کا اثر ہے شاید
ہر گرفتار قفس کوشش پرواز میں ہے

کیوں کریں غیر سے ہم عرض نیاز الفت
جس کے طالب ہیں ابھی جلوہ گاہ ناز میں ہے

عرشؔ تک دیکھیے پہنچے کہ نہ پہنچے کوئی
آہ کے ساتھ دعا بھی مری پرواز میں ہے