EN हिंदी
خوشبو صندل اور نہ گہنا دکھ دے گا | شیح شیری
KHushbu sandal aur na gahna dukh dega

غزل

خوشبو صندل اور نہ گہنا دکھ دے گا

عشرت آفریں

;

خوشبو صندل اور نہ گہنا دکھ دے گا
اک جیسا دکھ سہتے رہنا دکھ دے گا

ڈرتی کیوں ہے آنکھیں تیری اچھی ہیں
لیکن ان کا چپ چپ بہنا دکھ دے گا

جو ہم دونوں نے مل جل کر جھیلے تھے
وہ دکھ تیرا تنہا سہنا دکھ دے گا

جس نے ہم کو آنگن آنگن بانٹ دیا
اب تو اس دیوار کا ڈھہنا دکھ دے گا