EN हिंदी
خطا انجام ہو کر رہ گیا ہے | شیح شیری
KHata anjam ho kar rah gaya hai

غزل

خطا انجام ہو کر رہ گیا ہے

لکشمی نارائن فارغ

;

خطا انجام ہو کر رہ گیا ہے
بشر ناکام ہو کر رہ گیا ہے

ترا ملنا بقید زندگانی
خیال خام ہو کر رہ گیا ہے

فریب اعتبار‌ سعیٔ پیہم
مرا انجام ہو کر رہ گیا ہے

ہر اک عنواں بیاض آرزو کا
ترا پیغام ہو کر رہ گیا ہے

دل ناکام کا ہر داغ حسرت
سواد شام ہو کر رہ گیا ہے

وفا کا نام فارغؔ اس جہاں میں
برائے نام ہو کر رہ گیا ہے