EN हिंदी
کون کہتا ہے کہ آ کر دیکھ لو | شیح شیری
kaun kahta hai ki aa kar dekh lo

غزل

کون کہتا ہے کہ آ کر دیکھ لو

حسن بریلوی

;

کون کہتا ہے کہ آ کر دیکھ لو
حال عاشق کا بلا کر دیکھ لو

پوچھتے کیا ہو کہ دل میں کون ہے
لو یہ آئینہ اٹھا کر دیکھ لو

پوچھنا یہ ہے کہ پوچھو مجھ سے حال
دیکھنا یہ ہے کہ آ کر دیکھ لو

وہ اگر دیکھے تو آنکھیں پھوٹ جائیں
تم حسنؔ کو چھپ چھپا کر دیکھ لو