EN हिंदी
کرب میں پیار کے نغمات سنائیں کیسے | شیح شیری
karb mein pyar ke naghmat sunain kaise

غزل

کرب میں پیار کے نغمات سنائیں کیسے

بختیار ضیا

;

کرب میں پیار کے نغمات سنائیں کیسے
غم حقیقت سے حقیقت کو چھپائیں کیسے

لب و عارض کے تقاضوں کو بھلا کر یارو
دور آ پہنچے ہیں اب لوٹ کے جائیں کیسے

ان گنت جام پئے ذلت و رسوائی کے
زندگی اور ترے ناز اٹھائیں کیسے

دل جو دکھتا ہے ضیاؔ آنکھ بھی بھر آتی ہے
لوگ فطرت کے تقاضوں کو چھپائیں کیسے