کرب میں پیار کے نغمات سنائیں کیسے
غم حقیقت سے حقیقت کو چھپائیں کیسے
لب و عارض کے تقاضوں کو بھلا کر یارو
دور آ پہنچے ہیں اب لوٹ کے جائیں کیسے
ان گنت جام پئے ذلت و رسوائی کے
زندگی اور ترے ناز اٹھائیں کیسے
دل جو دکھتا ہے ضیاؔ آنکھ بھی بھر آتی ہے
لوگ فطرت کے تقاضوں کو چھپائیں کیسے
غزل
کرب میں پیار کے نغمات سنائیں کیسے
بختیار ضیا

