EN हिंदी
کیسے پتا چلے گا اگر سامنا نہ ہو | شیح شیری
kaise pata chalega agar samna na ho

غزل

کیسے پتا چلے گا اگر سامنا نہ ہو

مصطفی شہاب

;

کیسے پتا چلے گا اگر سامنا نہ ہو
میں جس کو چاہتا ہوں مجھے چاہتا نہ ہو

شب کے سفر میں چاند ستارے تو ساتھ ہیں
کچھ اور مہربان فلک ہو تو کیا نہ ہو

بچھڑا وہ مجھ سے ایسے نہ بچھڑے کبھی کوئی
اب یوں ملا ہے جیسے وہ پہلے ملا نہ ہو

پیتا ہوں روز اس کی نصیحت کے باوجود
میرے گناہ کی کہیں دوہری سزا نہ ہو

رکھتا ہوں یاد اس لیے ہر فصل گل شہابؔ
دن ہوں برے ہزار مگر دل برا نہ ہو