EN हिंदी
کہوں کیا فسانۂ غم اسے کون مانتا ہے | شیح شیری
kahun kya fasana-e-gham use kaun manta hai

غزل

کہوں کیا فسانۂ غم اسے کون مانتا ہے

قتیل شفائی

;

کہوں کیا فسانۂ غم اسے کون مانتا ہے
جو گزر رہی ہے مجھ پر مرا دل ہی جانتا ہے

تو صبا کا ہے وہ جھونکا جو گزر گیا چمن سے
نہ وہ رونقیں ہیں باقی نہ کہیں سہانتا ہے

اسے میں نصیب جانوں کی بشر کی خود فریبی
کوئی بھر رہا ہے دامن کوئی خاک چھانتا ہے

ترا یوں خیال آیا مجھے غم کی دوپہر میں
کوئی جیسے اپنا آنچل مرے سر پہ تانتا ہے

میں نظام زر کی دیوی سے قتیلؔ آشنا ہوں
کہیں نام اس کا سلمیٰ کہیں چندرکانتا ہے