EN हिंदी
کہیں ظاہر یہ تیری چاہ نہ کی | شیح شیری
kahin zahir ye teri chah na ki

غزل

کہیں ظاہر یہ تیری چاہ نہ کی

میر اثر

;

کہیں ظاہر یہ تیری چاہ نہ کی
مرتے مرتے بھی ہم نے آہ نہ کی

تو نگہ کی نہ کی خدا جانے
ہم تو ڈر سے کبھو نگاہ نہ کی

سب کے جی میں یہ نالہ ہو گزرا
ایک تیرے ہی دل میں راہ نہ کی

آہ مر گئے پہ ناتوانی
ایک بھی آہ سربراہ نہ کی

وہ کسو اور سے کرے گا کیا
جن نے تجھ سے اثرؔ نباہ نہ کی