کہیں ظاہر یہ تیری چاہ نہ کی
مرتے مرتے بھی ہم نے آہ نہ کی
تو نگہ کی نہ کی خدا جانے
ہم تو ڈر سے کبھو نگاہ نہ کی
سب کے جی میں یہ نالہ ہو گزرا
ایک تیرے ہی دل میں راہ نہ کی
آہ مر گئے پہ ناتوانی
ایک بھی آہ سربراہ نہ کی
وہ کسو اور سے کرے گا کیا
جن نے تجھ سے اثرؔ نباہ نہ کی
غزل
کہیں ظاہر یہ تیری چاہ نہ کی
میر اثر

