کہیں تو پائے سفر کو راہ حیات کم تھی
قدم بڑھایا تو سیر کو کائنات کم تھی
سوائے میرے کسی کو جلنے کا ہوش کب تھا
چراغ کی لو بلند تھی اور رات کم تھی
خیال صحرائے ذات میں اس مقام پر تھا
جہاں کہ گنجائش فرار و نجات کم تھی
وہ فرد بخشش کہ جس کی تکمیل کی ہے میں نے
نگاہ ڈالی تو اس میں اپنی ہی ذات کم تھی
بہت ہنسے خوب روئے جی کھول کر جیے ہم
اگرچہ میعاد ہستی بے ثبات کم تھی
ترے کرم سے بڑا تھا کچھ اعتقاد میرا
اسی لیے مجھ کو فکر صوم و صلوت کم تھی
بہاؤ پانی کی بوند پر خون کا سمندر
نہیں تو اک قطرۂ لہو سے فرات کم تھی
غزل مظفرؔ کی خوب تھی اس میں شک نہیں ہے
مگر تغزل کے نام پر ایک بات کم تھی

غزل
کہاں تو پائے سفر کو راہ حیات کم تھی
مظفر حنفی