EN हिंदी
کبھو ہم سے بھی وفا کیجئے گا | شیح شیری
kabhu humse bhi wafa kijiyega

غزل

کبھو ہم سے بھی وفا کیجئے گا

میر اثر

;

کبھو ہم سے بھی وفا کیجئے گا
یا یہی جور و جفا کیجئے گا

دیکھیں دشنام کہاں تک دوگے
دم میں سو بار دعا کیجئے گا

نظر آتا ہے گرہ زلف سے کھول
ہر طرف فتنہ بپا کیجئے گا

جان و دل سے بھی گزر جائیں گے
اگر ایسا ہی خفا کیجئے گا

کی ہے بندے کے لئے یہ بیداد
رحم ٹک بہر خدا کیجئے گا

عشق کے صدقے اٹھاتا تھا دل
اب تو وہ بھی نہیں کیا کیجئے گا

اب تو ٹک میرا کہا کیجئے پھر
چاہئے گا سو کہا کیجئے گا

گو اسے اہل وفا سے ہے خلاف
اب اثرؔ تو بھی وفا کیجئے گا