کار دیں اس بت کے ہاتھوں ہائے ابتر ہو گیا
جس مسلماں نے اسے دیکھا وہ کافر ہو گیا
دلبروں کے نقش پا میں ہے صدف کا سا اثر
جو مرا آنسو گرا اس میں سو گوہر ہو گیا
کیا بدن ہوگا کہ جس کے کھولتے جامہ کا بند
برگ گل کی طرح ہر ناخن معطر ہو گیا
آنکھ سے نکلے پہ آنسو کا خدا حافظ یقیںؔ
گھر سے جو باہر گیا لڑکا سو ابتر ہو گیا
غزل
کار دیں اس بت کے ہاتھوں ہائے ابتر ہو گیا
انعام اللہ خاں یقینؔ