جو ہو ورائے ذات وہ جینا ہی اور ہے
جینے کا اہل دل کے قرینہ ہی اور ہے
تم سکۂ رواں کی ہوس میں ہو تم کو کیا
جویا ہیں جن کے ہم وہ خزینہ ہی اور ہے
ہم ساحل نجات پہ کشتی جلا چکے
اب رہنما کوئی نہ سفینہ ہی اور ہے
لکھ کر دیا تھا اس نے جو وعدہ وصال کا
اس میں کوئی نیا سا مہینہ ہی اور ہے
پھینکی نہ جانے اس نے مری قاش دل کہاں
انگشتری میں اب تو نگینہ ہی اور ہے
پہنچا سنبھل سنبھل کے سر بام تب کھلا
منزل نہیں یہ اس کی یہ زینہ ہی اور ہے
وہ دن گئے کہ سوتے تھے ہم بھی پسارے پاؤں
مدت سے اب تو شغل شبینہ ہی اور ہے
حقیؔ یہ اپنا چشمۂ رنگیں اتارئیے
دیکھیں گے پھر کہ دیدۂ بینا ہی اور ہے
غزل
جو ہو ورائے ذات وہ جینا ہی اور ہے
شان الحق حقی

