جس کو ہستی و عدم جانتے ہیں
ہے وہ کچھ اور ہی ہم جاتے ہیں
کوچۂ جنب سے ملحق ہے شیخ
ہم جسے راہ حرم جانتے ہیں
جزو و کل ایک ہے جوں قطرۂ بحر
بہت اس رمز کو کم جانتے ہیں
شاہد خوب و مکان دلچسپ
ہم یہی حور و ارم جانتے ہیں
کہہ نہ مت کھا مرے سر کی سوگند
ہم تو اک یہ ہی قسم جانتے ہیں
کہتے ہو آؤں گا میں اک دم میں
ایسے ہم سیکڑوں دم جانتے ہیں
دل جو تابع نہ ہو اپنے قائمؔ
ہم اسے چھاتی پہ جم جانتے ہیں
غزل
جس کو ہستی و عدم جانتے ہیں
قائم چاندپوری