جیسا چاہا ویسا منظر دیکھا ہے
یعنی ہم نے اپنے اندر دیکھا ہے
ان آنکھوں کو دیکھنے والے کہتے ہیں
اس دنیا کو ہم نے بہتر دیکھا ہے
جانے والے تجھ کو اتنا یاد رہے
ہم نے تیرا ہاتھ پکڑ کر دیکھا ہے
تیری کیسے بن جاتی ہے دنیا سے
میں نے اپنا آپ بدل کر دیکھا ہے
غزل
جیسا چاہا ویسا منظر دیکھا ہے
رانا عامر لیاقت

