جان جاتا ہے اب تو آ جانی
ہجر کی آگ پر چھڑک پانی
دامن و آستیں کوں رو رو کر
خون دل سیں کیا ہوں افشانی
زلف تیری سیں داد پاؤں گا
ہات آئی ہے اب پریشانی
لالہ رو پھر بہار آئی ہے
کیوں نہ ہوئے پھول کی فراوانی
گنج مخفی سیں آشنا ہے سراجؔ
جب سیں ہوئی ہے نگاہ رحمانی
غزل
جان جاتا ہے اب تو آ جانی
سراج اورنگ آبادی

