EN हिंदी
جان جاتا ہے اب تو آ جانی | شیح شیری
jaan jata hai ab to aa jaani

غزل

جان جاتا ہے اب تو آ جانی

سراج اورنگ آبادی

;

جان جاتا ہے اب تو آ جانی
ہجر کی آگ پر چھڑک پانی

دامن و آستیں کوں رو رو کر
خون دل سیں کیا ہوں افشانی

زلف تیری سیں داد پاؤں گا
ہات آئی ہے اب پریشانی

لالہ رو پھر بہار آئی ہے
کیوں نہ ہوئے پھول کی فراوانی

گنج مخفی سیں آشنا ہے سراجؔ
جب سیں ہوئی ہے نگاہ رحمانی