جام خالی جہاں نظر آیا
میری آنکھوں میں خوں اتر آیا
وہ بہت کم کسی نے دیکھا ہے
مجھ کو جو کچھ یہاں نظر آیا
جھک گئے آسمان سجدے میں
کون یہ اپنے بام پر آیا
کانپ اٹھا چرخ ہل گئی دنیا
وہ جہاں اپنی بات پر آیا
اس نے پوچھا مزاج کیسا ہے
دل جو امڈا ہوا تھا بھر آیا
جب کبھی اس نے کی نظر مجھ پر
ایک چھالا نیا ابھر آیا
تیری جانب سے ہوشیار گیا
اپنی جانب سے بے خبر آیا
جب کیا قصد ضبط آہ عزیزؔ
دل میں چھالا سا اک ابھر آیا
غزل
جام خالی جہاں نظر آیا
عزیز لکھنوی

