EN हिंदी
عشق کا کوئی خیر خواہ تو ہے | شیح شیری
ishq ka koi KHair-KHwah to hai

غزل

عشق کا کوئی خیر خواہ تو ہے

شکیل بدایونی

;

عشق کا کوئی خیر خواہ تو ہے
تو نہیں ہے تری نگاہ تو ہے

عرض غم کیوں نہ ان سے کر دیکھوں
اب بھی تھوڑی سی رسم و راہ تو ہے

زندگی اک سیاہ رات سہی
عاشقی اک چراغ راہ تو ہے

روز و شب کی حقیقتیں معلوم
اک تماشائے مہر و ماہ تو ہے

تاب جلوہ مجھے نہیں نہ سہی
لیکن اک جرات نگاہ تو ہے

اور اقبال‌ جرم کیا ہو شکیلؔ
تھرتھراتے لبوں پہ آہ تو ہے