عشق کا کوئی خیر خواہ تو ہے
تو نہیں ہے تری نگاہ تو ہے
عرض غم کیوں نہ ان سے کر دیکھوں
اب بھی تھوڑی سی رسم و راہ تو ہے
زندگی اک سیاہ رات سہی
عاشقی اک چراغ راہ تو ہے
روز و شب کی حقیقتیں معلوم
اک تماشائے مہر و ماہ تو ہے
تاب جلوہ مجھے نہیں نہ سہی
لیکن اک جرات نگاہ تو ہے
اور اقبال جرم کیا ہو شکیلؔ
تھرتھراتے لبوں پہ آہ تو ہے
غزل
عشق کا کوئی خیر خواہ تو ہے
شکیل بدایونی

