EN हिंदी
حسن صورت میں گرچہ بود نہیں | شیح شیری
husn-e-surat mein garche bud nahin

غزل

حسن صورت میں گرچہ بود نہیں

کشن کمار وقار

;

حسن صورت میں گرچہ بود نہیں
پر کہاں عشق کی نمود نہیں

نیستی جلوہ گر ہے ہستی میں
کچھ عدم کا مرے وجود نہیں

ہم نے اول سے دیکھا آخر تک
ذات حق کی نبود و بود نہیں

تیرے حسن ملیح کے قربان
کس کے ورد زباں درود نہیں

میرے ساقی کے پیش ساغر چشم
شیشہ کو کب سر سجود نہیں

داغ سوزاں ہے جسم میں وہ عضو
سنگ آفت سے جو کبود نہیں

باغ ہے داغ گر نہ ہو لالہ
بزم وہ کیا ہے جس میں عود نہیں

بسکہ ہے کند ناخن‌ مژگاں
عقدۂ اشک کی کشود نہیں

ہم جو کہتے تھے تم سے روز وقارؔ
جز ضرر عاشقی میں سود نہیں