ہوا ہوں ان دنوں مائل کسی کا
نہ تھا میں اس قدر گھائل کسی کا
دوانے دل کوں سمجھاتا ہوں لیکن
کہاں لگ ہوئے کوئی حائل کسی کا
ہوا ہے دل دہی کا تم پہ تاواں
نہیں آسان لینا دل کسی کا
خم گیسو سیں اپنے تو گرہ کھول
کھلے تا عقدۂ مشکل کسی کا
کیا یک وار میں کئی دل کی پھانکیں
لگا ہے ہات کیا کامل کسی کا
گلی میں جس کی شور کربلا ہے
سلونا شوخ ہے قاتل کسی کا
کہو اس لالۂ گلزار جاں کوں
کبھی تو دیکھ داغ دل کسی کا
سراجؔ اب سوز دل میرا وو جانے
جو ہے پروانۂ محفل کسی کا
غزل
ہوا ہوں ان دنوں مائل کسی کا
سراج اورنگ آبادی

