ہزار قید خزاں سے چھٹ کر بہار کا آسرا کریں گے
بہار بھی ہم قفس زدوں کو نہ راس آئی تو کیا کریں گے
اب اور اس کے سوا نہ ہوگی قفس میں تسکین دل کی صورت
چمن کی جانب نظر اٹھا کر کبھی کبھی ہنس لیا کریں گے
یہ کیا خبر تھی کہ شام فرقت مرے لیے سازگار ہوگی
وہ ماہ و انجم کی آڑ لے کر مرے فسانے سنا کریں گے
ہمارے مشرب میں تھی نہ جائز در حرم کی یہ جبہ سائی
یہ فرض نا خوشگوار لیکن اب ان کی خاطر ادا کریں گے
نگاہ کی بندشیں سلامت جنوں کی پابندیاں مسلم
کہیں بھرم کھل گیا تو اے دل میں کیا کروں گا وہ کیا کریں گے
یہ دیکھنا ہے کہ بعد ترک تعلقات اے شکیلؔ کب تک
نہ کوئی ہم پر جفا کرے گا نہ ہم کسی سے وفا کریں گے
غزل
ہزار قید خزاں سے چھٹ کر بہار کا آسرا کریں گے
شکیل بدایونی

