EN हिंदी
ہستی کی قید سے اے دل آزاد ہوئیے | شیح شیری
hasti ki qaid se ai dil aazad hoiye

غزل

ہستی کی قید سے اے دل آزاد ہوئیے

شیخ ظہور الدین حاتم

;

ہستی کی قید سے اے دل آزاد ہوئیے
صحرا میں جا کے خوب سا ہنس ہنس کے روئیے

دونوں جہاں کا شادی و غم دل سے بھول کر
پاؤں دراز کر کے فراغت سے سوئیے

اے چشم از برائے خدا گر مدد کرے
اعمال نامہ اپنا تو رو رو کے دھویئے

حاتمؔ کسی سے اپنی مصیبت کو تو نہ کہہ
کیا فائدہ جو اپنا بھرم مفت کھوئیے