EN हिंदी
ہر شام دلاتی ہے اسے یاد ہماری | شیح شیری
har sham dilati hai use yaad hamari

غزل

ہر شام دلاتی ہے اسے یاد ہماری

کاشف حسین غائر

;

ہر شام دلاتی ہے اسے یاد ہماری
اتنی تو ہوا کرتی ہے امداد ہماری

کچھ ہیں بھی اگر ہم تو گرفتار ہیں اپنے
زنجیر نظر آتی ہے آزاد ہماری

یہ شہر نظر آتا ہے ہم زاد ہمارا
اور گرد نظر آتی ہے فریاد ہماری

یہ راہ بتا سکتی ہے ہم کون ہیں کیا ہیں
یہ دھول سنا سکتی ہے روداد ہماری

ہم گوشہ نشینوں سے ہے مانوس کچھ ایسی
جیسے کہ یہ تنہائی ہو اولاد ہماری

اچھا ہے کہ دیوار کے سائے سے رہیں دور
پڑ جائے نہ دیوار پہ افتاد ہماری