EN हिंदी
ہمارا ذکر دشمن کی زبانی دیکھتے جاؤ | شیح شیری
hamara zikr dushman ki zabani dekhte jao

غزل

ہمارا ذکر دشمن کی زبانی دیکھتے جاؤ

ہری چند اختر

;

ہمارا ذکر دشمن کی زبانی دیکھتے جاؤ
فسانہ بن گئی ساری کہانی دیکھتے جاؤ

ذرا اک چھیڑ دو زاہد سے قصے حور و غلماں کے
پھر اس کم بخت کی رنگیں بیانی دیکھتے جاؤ

ٹپک لے خون ارمانوں کا آنکھوں سے ذرا ٹھہرو
مری لٹتی ہوئی رنگیں جوانی دیکھتے جاؤ

کمال سوز غم ہائے نہانی ڈھونڈنے والو
مآل‌‌ سوز غم ہائے نہانی دیکھتے جاؤ

بہت چرچے تھے یاروں میں مری جادو بیانی کے
حضور دوست میری بے زبانی دیکھتے جاؤ