EN हिंदी
ہم یہاں رہتے ہیں اپنی ہی نگہبانی میں | شیح شیری
hum yahan rahte hain apni hi nigahbani mein

غزل

ہم یہاں رہتے ہیں اپنی ہی نگہبانی میں

ہمدم کاشمیری

;

ہم یہاں رہتے ہیں اپنی ہی نگہبانی میں
جب سے مشکل نظر آنے لگی آسانی میں

میرے ہاتھوں میں یہ کشکول تھمایا کس نے
کیسا سامان ملا بے سر و سامانی میں

ہائے کیا لوگ تھے جو جوش و جنوں رکھتے تھے
اب کوئی لطف نہیں چاک گریبانی میں

کبھی اس شہر میں کچھ دیر ٹھہر کر دیکھو
زندگانی کو رواں موت کی تابانی میں

ہم نے اک عمر بسر کی ہے یہاں بھی لیکن
کچھ اضافہ نہ ہوا دشت کی ویرانی میں

عکس میرا مجھے لگتا ہے جہاں تاب ہوا
سر کہسار دکھائی جو دیا پانی میں

میرے اطراف ہیں کتنے ہی پرندے خاموش
ہے کوئی کامل فن کار سلیمانی میں