ہم ان کی انجمن کا سماں بن کے رہ گئے
سر تا قدم نگاہ و زباں بن کے رہ گئے
پلٹے مقدرات کچھ اس طور سے کہ ہم
تصویر انقلاب جہاں بن کے رہ گئے
مظلوم دل کی تلخ نوائی تو دیکھنا
نغمے جو لب تک آئے فغاں بن کے رہ گئے
اب ہم ہیں اور حقیقت آلام ہے شکیلؔ
لمحے خوشی کے خواب گراں بن کے رہ گئے
غزل
ہم ان کی انجمن کا سماں بن کے رہ گئے
شکیل بدایونی

