EN हिंदी
ہم ان کی انجمن کا سماں بن کے رہ گئے | شیح شیری
hum unki anjuman ka saman ban ke rah gae

غزل

ہم ان کی انجمن کا سماں بن کے رہ گئے

شکیل بدایونی

;

ہم ان کی انجمن کا سماں بن کے رہ گئے
سر تا قدم نگاہ و زباں بن کے رہ گئے

پلٹے مقدرات کچھ اس طور سے کہ ہم
تصویر انقلاب جہاں بن کے رہ گئے

مظلوم دل کی تلخ نوائی تو دیکھنا
نغمے جو لب تک آئے فغاں بن کے رہ گئے

اب ہم ہیں اور حقیقت آلام ہے شکیلؔ
لمحے خوشی کے خواب گراں بن کے رہ گئے