ہیں سرنگوں جو طعنۂ خلق خدا سے ہم
کیا ہو گئے کسی کی محبت میں کیا سے ہم
اب تک کبھی کے مٹ گئے ہوتے جفا سے ہم
زندہ ہیں اے رشیدؔ کسی کی دعا سے ہم
یاد آ گئے جب اپنے گلے میں وہ دست ناز
روئے لپٹ لپٹ کے ترے نقش پا سے ہم
بیمار درد ہجر کی پرسش سے فائدہ
اچھے ہیں یا برے ہیں تمہاری بلا سے ہم
پیدا ہوئے ہیں پھر سے یہ سمجھیں گے اے رشیدؔ
جیتے بچے جو چارہ گروں کی دوا سے ہم
غزل
ہیں سرنگوں جو طعنۂ خلق خدا سے ہم
رشید رامپوری

