EN हिंदी
گر دل سے بھلائی مری چاہت نہیں جاتی | شیح شیری
gar dil se bhulai meri chahat nahin jati

غزل

گر دل سے بھلائی مری چاہت نہیں جاتی

ناہید ورک

;

گر دل سے بھلائی مری چاہت نہیں جاتی
کیوں پھر تری انکار کی عادت نہیں جاتی

پھر اوڑھ لی ہے ہم نے ترے نام کی چادر
پھر دل سے، وہی گھر کی ضرورت نہیں جاتی

کیوں رات کے پردے میں چھپا دن نہیں آتا؟
کیوں آنکھ سے لپٹی یہ مسافت نہیں جاتی

کیوں وقت رکا ہے مری آنکھوں میں ابھی تک؟
کیوں لمس کی تیرے وہ تمازت نہیں جاتی

کیوں وصل کی بارش نہیں ہوتی مرے آنگن؟
کیوں ہجر کی ناہیدؔ یہ حدت نہیں جاتی