غموں نے اس طرح گھیرا کبھی نہیں ہوگا
یہ لگ رہا تھا سویرا کبھی نہیں ہوگا
انہیں کا ذکر ہے دن رات ان کی باتیں ہیں
تمہارا دل ہے یہ میرا کبھی نہیں ہوگا
تمام دولت کون و مکاں ملے تو کیا
تو جس کا ہو گیا، تیرا کبھی نہیں ہوگا
ہماری سن لو ہمیں دیکھ لو کہ پھر شاید
ادھر فقیر کا پھیرا کبھی نہیں ہوگا
دیا ہے اپنا لہو اس قدر چراغوں کو
ہمارے بعد اندھیرا کبھی نہیں ہوگا

غزل
غموں نے اس طرح گھیرا کبھی نہیں ہوگا
مشتاق نقوی