EN हिंदी
دونوں جہاں دے کے وہ سمجھے یہ خوش رہا (ردیف .. ن) | شیح شیری
donon jahan de ke wo samjhe ye KHush raha

غزل

دونوں جہاں دے کے وہ سمجھے یہ خوش رہا (ردیف .. ن)

مرزا غالب

;

دونوں جہان دے کے وہ سمجھے یہ خوش رہا
یاں آ پڑی یہ شرم کہ تکرار کیا کریں

تھک تھک کے ہر مقام پہ دو چار رہ گئے
تیرا پتہ نہ پائیں تو ناچار کیا کریں

کیا شمع کے نہیں ہیں ہوا خواہ بزم میں
ہو غم ہی جاں گداز تو غم خوار کیا کریں