EN हिंदी
دھوپ سی عمر بسر کرنا ہے | شیح شیری
dhup si umr basar karna hai

غزل

دھوپ سی عمر بسر کرنا ہے

مصطفی شہاب

;

دھوپ سی عمر بسر کرنا ہے
ایک دیوار کو سر کرنا ہے

آنکھ تو صرف شہادت دے گی
دل کو تصدیق سحر کرنا ہے

اب فصیلوں پہ اگانا ہے گلاب
فوج کو شہر بدر کرنا ہے

صرف جگنو سا چمکنا ہے شہابؔ
کب مجھے کار خضر کرنا ہے